گناہ و ناجائز

عورتوں کا قبرستان میں جانے کاحکم

فتوی نمبر :
2244
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عورتوں کا قبرستان میں جانے کاحکم

محترم جناب مفتی صاحب، عورتوں کا قبرستان میں جانا ( زیارتِ قبور ) کیسا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عورتوں کے لئے قبرستان جانا جائز ہے، بشرطیکہ کسی محرم کی معیت میں اور پردۂ شرعی کو ملحوظ رکھتے ہوئے جائیں، اور وہاں جا کر بھی کسی غیر شرعی امر کا ارتکاب اور جزع فزع نہ کریں، اور نہ ان کے جانے میں کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ ہو ورنہ ان پر قبرستان جانے سے احتر از واجب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: ولو للنساء) وقيل: تحرم عليهن. والأصح أن الرخصة ثابتة لهن بحر، وجزم في شرح المنية بالكراهة لما مر في اتباعهن الجنازة. وقال الخير الرملي: إن كان ذلك لتجديد الحزن والبكاء والندب على ما جرت به عادتهن فلا تجوز، وعليه حمل حديث «لعن الله زائرات القبور» وإن كان للاعتبار والترحم من غير بكاء والتبرك بزيارة قبور الصالحين فلا بأس إذا كن عجائز. ويكره إذا كن شواب كحضور الجماعة في المساجد اهـ وهو توفيق حسن اھ (2/ 242)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 2244کی تصدیق کریں
0     551
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات