گناہ و ناجائز

مجبوری کی وجہ سے بجلی چوری کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
22453
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مجبوری کی وجہ سے بجلی چوری کرنے کا حکم

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا بجلی چوری کرنا جائز ہے؟ جبکہ KESC والے بیس سے تیس ہزار کا بل بھیجتے ہیں ، جب کہ ہم حقیقت میں اتنے روپیوں کی بجلی استعمال نہیں کرتے، اور بجلی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، پاکستان میں ہر کوئی چوری کرتا ہے، مہربانی فرما کر جواب دیں کہ کیا ہم رات کے وقت کنڈا لگاسکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بجلی کا بغیر میٹرکے غیر قانونی استعمال شرعاً جائز نہیں ، اس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر باوجود شکایت متعلقہ ادارہ ان کا ازالہ نہ کرتا ہو، تو ظلم سے بچنے کے لیے کوئی بھی ایسا ممکنہ جائز طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے، جس کی وجہ سے ریڈنگ استعمال کے مطابق آئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی تکملة فتح الملھم: تحت قولہ (قولہ انما الطاعة فی المعروف) قد ثبت باحادیث الباب مبدأ أن عظیمان من مبادی السیاسة الاسلامیة استعملھا الفقھاء فی کثیر من المسائل، الاول، مبدأ طاعة الامیر وان المسلم یجب علیہ ان یطیع امیرہ فی الامور المباحة الخ (3/323)۔
وفی الفقہ الاسلامی: قال ابن عابدين: إن عدم جواز أخذ الدائن شيئاً للمدين من خلاف جنسه حقه، كان في زمانهم ـ أي زمان متقدمي الحنفية ـ لمطاوعتهم في الحقوق، والفتوى اليوم على جواز الأخذ عند القدرة من أي مال كان،7/5451)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد البصیر عزیز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 22453کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات