گناہ و ناجائز

انسانی خون لگوانے کاحکم

فتوی نمبر :
2280
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

انسانی خون لگوانے کاحکم

کیا خون لگوانا حلال ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

خون کے نجس اور عضوِ انسانی ہونے کی وجہ سے عام حالات میں اس کا لگوانا اور اس سے انتفاع حاصل کرنا جائز نہیں، تاہم اگر مریض کی جان کا خطرہ ہو اور کوئی دوسری دوا اُس کی جان بچانے کے لئے مؤثر یا موجود نہ ہو، اور خون لگوانے سے اُس کی جان بچنے کا ظنِ غالب ہو نیز کوئی دیندار اور ماہر معالج بھی یہی تجویز دے رہا ہو تو ان دونوں صورتوں میں اُسے خون لگوانا شرعاً جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وقال الله تبارك وتعالى : {إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ } [البقرة: 173]
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): اختلف في التداوي بالمحرم. وظاهر المذهب المنع كما في إرضاع البحر، لكن نقل المصنف ثمة وهنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيه الشفاء ولم يعلم دواء آخر كما خص الخمر للعطشان وعليه الفتوى. اهـ. (3/ 211)-
و في الفتاوى الهندية: يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه اھ (5/ 355)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 2280کی تصدیق کریں
0     387
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات