السلام و علیکم! میں آپ سے کچھ سوالات کے جوابات پوچھنا چاہتا ہوں، امید ہے کہ آپ جلد از جلد انکے جوابات ارسال کریں کے:
(1) میرا بھائی عمرہ کرنے گیا ہوا ہے، اپنے عمرہ کا طواف اور سعی کرنے کے بعد بغیر حلق یا قصر کر وائے احرام کھول دیا اسکو عمرہ کیے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا ہے ، کل میری اس سے بات ہوئی تھی تو اسنے مجھے یہ بات بتائی ، اس ایک ہفتہ میں اس نے ناتو حلق کر وایا نا ہی قصر ،اور احرام کی چادریں اُتار کر سلے ہوئے کپڑے بھی پہن رہا ہے کیا اسکو اپنی اس غلطی کے لیے دم دینا پڑے گا ؟
( 2) کیا تہجد کی نماز پڑ ھنے کے لیے عشاء کی نماز کے بعد نیندکرنا ضروری ہے یا اگر کوئی شخص عشاء کے بعد مسلسل جاگ رہا ہو اور تہجد کا وقت ہو جائے تووہ تہجد پڑھ سکتا ہے؟ میرے پروفیشن کی نوعیت ایسی ہے کہ میں ایک ہفتہ دن میں کام کرتا ہوں اور ایک ہفتہ رات کی شفٹ ہوتی ہے ، جب نائٹ شفٹ ہوتی ہے اور میں ساری رات کا جاگا ہوا ہوتا ہوں تب بھی اکثر تہجد پڑھ لیتا ہوں، میرا ایک کولیگ مجھے یہ کہہ رہاتھا کہ تہجد کے لیے نیندکرنا ضروری ہے ،برائے مہربانی ان معاملات میں میری راہنمائی فرمائیں،میرا بھائی ابھی بھی مکہ میں ہی ہے، اسلیے اگر آپ جلد جوابات ارسال کر دیں تو بڑی مہربانی ہو گی ، تا کہ اگر اسے دم دینا ہو تو وہ وہاں دم دے دے۔
(1)عمرہ کے بعد بغیر حلق کیے احرام کھول کر کپڑے پہننے کی وجہ سے سائل کے بھائی پر دم لازم ہوا ہے ، حرم کے اندر دم یعنی ایک بکرا یا بکری یا دنبہ کی قربانی کر دے ، تاکہ اس کی غلطی کا ازالہ ہو سکے ۔
(2) تہجد کی نماز کے لیے اس سے قبل سونا کوئی ضروری نہیں یہ عوام میں غلط مشہور ہے ، البتہ رات کے آخری حصے میں تہجد کی نماز پڑھنا بہتر اور افضل ہے ۔
کما فی الدر المختار : (ثم قصر) بأن يأخذ من كل شعره قدر الأنملة وجوبا وتقصيرالكل مندوب والربع واجب (الی قوله ) لايخرج من الإحرام إلابالحلقاھ (2/516۔518)۔
و فی الشامیۃ : فمنها ما في صحيح مسلم مرفوعا «أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل» وروى الطبراني مرفوعا «لا بد من صلاة الليل ولو حلب شاة، وما كان بعد صلاة العشاء فهو من الليل» وهذا يفيد أن هذه السنة تحصل بالتنفل بعد صلاة العشاء قبل النوم. اهـ (2/24)۔