گناہ و ناجائز

تین ماہ کے حمل کو ضائع کرنے کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
24223
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

تین ماہ کے حمل کو ضائع کرنے کا شرعی حکم

تین مہینوں کا حمل ہے، ڈاکٹر کہتا ہے کہ پورا نہیں، اس لئے اس کو ختم کرنا ہوگا، جبکہ عورت کو تکلیف نہیں صرف خون کا مسئلہ ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صرف ایک دفعہ کی ڈاکٹری رپوٹ کو بنیاد بنا کر مذکور عرصہ کے حمل کو ضائع کرنا اچھا نہیں، تاہم اگر واقعی کوئی عذر ہو ،جس میں ماں کی جان کو خطرہ لاحق ہو تو اس صورت میں حمل کو چار ماہ سے قبل ساقط کرنے کی بھی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: اتفق العلماء على تحريم الإجهاض دون عذر بعد الشهر الرابع أي بعد 120 يوماً من بدء الحمل، ويعد ذلك جريمة موجبة للغُرَّة ، لأنه إزهاق نفس وقتل إنسان. (4/ 2646)۔
وفيه ايضا: 1 - مذهب الحنفية: يباح الإسقاط بعد الحمل، ما لم يتخلق منه شيء، ولن يكون ذلك إلا بعد مئة وعشرين يوماً؛ لأنه ليس بآدمي. وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق: نفخ الروح. وقيل عندهم: إن ذلك مكروه بغير عذر، فإذا أسقطت بغير عذر يلحقها إثم. (4/ 2647)۔
و في الدر المختار: وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج اھ (3/ 176)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، (إلی قوله) قال ابن وهبان: فإباحة الإسقاط محمولة على حالة العذر، أو أنها لا تأثم إثم القتل اهـ (3/ 176)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حنیف اللہ خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 24223کی تصدیق کریں
0     645
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات