گناہ و ناجائز

غیر اخلاقی فلمیں دیکھنے کی سزا و کفارہ کیا ہے؟

فتوی نمبر :
24294
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر اخلاقی فلمیں دیکھنے کی سزا و کفارہ کیا ہے؟

بہت سارے مسلمان جو غیر مسلم ممالک میں رہتے ہیں، جہاں زنا اور دوسری غیر اخلاقی باتیں بکثرت ہوتی ہیں، غیر مسلم ممالک کے علاوہ مسلم ممالک میں بھی انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی چیزیں کافی دکھائی جاتی ہیں۔ میرا سوال غیر اخلاقی چیزیں دیکھنا زنا کی طرح حرام ہے؟ کیا بذریعہ کارٹون غیر اخلاقی چیزیں دیکھنا بھی زنا کی طرح حرام ہے ؟ اسلامی معاشرہ میں غیر اخلاقی فلمیں دیکھنے والوں کے خلاف کیا سزا ہونی چاہیے ؟ جب کوئی شخص اس غلط حرکت میں مبتلا ہو تو غیر اخلاقی فلمیں دیکھنے کا کیا کفارہ ہوگا جبکہ وہ شخص اس حرکت کو چھوڑنا چاہتا ہے؟ جب کوئی شخص اس غیر اخلاقی عمل میں مبتلا ہو، تو وہ کون سا عمل ہے جس کی وجہ سے یہ گناہ اس سے ختم ہو جائے گا ؟ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ: یہ عمل قتل، زنا وغیرہ کی طرح بڑا گناہ نہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی فلمیں دیکھنا زنا کی طرح حرام اور گناہ ہے اگرچہ اس کی سزا زنا کی سزا کی طرح نہیں، تاہم ایسے شخص پر لازم ہے کہ اپنے اس فعل پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے اور آئندہ اس فعل بد سے اجتناب بھی کرے اور ساتھ ہی اچھی صحبت اختیار کرے اور بری صحبت سے بچنے کی کوشش کرے۔
تاہم سوال میں مذکور گناہ کا کوئی کفارہ نہیں، البتہ اس قسم کے جرائم روکنے کے لیے حکومتِ وقت تعزیری سزائیں جاری کر سکتی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار : وشرعا (تأديب دون الحد أكثره تسعة وثلاثون سوطا، وأقله ثلاثة) لو بالضرب اھ (4/ 60)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وأقله ثلاثة) أي أقل التعزير ثلاث جلدات وهكذا ذكره القدوري، فكأنه يرى أن ما دونها لا يقع به الزجر، وليس كذلك بل يختلف ذلك باختلاف الأشخاص، فلا معنى لتقديره مع حصول المقصود بدونه فيكون مفوضا إلى رأي القاضي يقيمه بقدر ما يرى المصلحة اھ (4/ 60)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24294کی تصدیق کریں
0     38
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات