میری بہن کی شادی ایک ایسے آدمی سے ہوئی ہے کہ اُس نے پہلی بیوی کو طلاق دی ہے، اور اُس سے ایک بیٹی بھی ہے، اور طلاق لڑکی نے خود لی تھی ،اور لکھ کر دیا تھا کہ میں اپنی ہر چیز سے دستبردار ہوتی ہوں، اپنی بیٹی سے بھی، مطلب اپنی بیٹی کو بھی چھوڑتی ہوں، اور چھوڑ کر کہیں اور شادی بھی کر لی، بعد میں میری بہن سے اُن کی شادی ہوئی، الحمد للہ خوش ہے، اور وہ بچی میری بہن کو ہی اپنی ماں سمجھتی اور مانتی ہے، سات سال کی ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ کاغذات میں اُس بچی کی ماں کا نام لکھا ہے، عمرہ وغیرہ کے لئے ماں کے کاغذات کی ضرورت پڑتی ہے، جب میری بہن نے کہا کہ بچی کے کاغذات میں ماں کی جگہ میرا نام لکھ لیں ،تو انہوں نے کہا ہے کہ یہ شریعت کے خلاف ہے، مجھے یہی پتہ کرنا ہے کہ کیا اس بچی کے کاغذات میں میری بہن کا نام آسکتا ہے، ایک ماں کی حیثیت سے ؟
کا غذات میں اصل والدہ کی بجائے سائل کی بہن کا نام لکھنا جھوٹ پر مبنی عمل ہے، جس سے احتراز لازم ۔
قال الله تعالى : {وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ } [الأحزاب: 4، 5] ۔
ففي أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم فيه إباحة إطلاق اسم الأخوة وحظر إطلاق اسم الأبوة من غير جهة النسب (الى قوله)وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام اھ (5/ 222)۔
في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: ومنع الشرع أيضاً الأبناء من انتسابهم إلى غير آبائهم، فقال صلّى الله عليه وسلم: «من ادعى إلي غير أبيه وهو يعلم، فالجنة عليه حرام اھ (10/ 7248)۔