میں ایک خاموش طبیعت اور کم بولنے والا انسان ہوں، جس کی وجہ سے مجھے ہر جگہ دماغی اذیت دی جاتی ہے ، مجھے ایسالگنے لگا کہ خاموش طبیعت کا انسان ہوناسب سے براہ گناہ ہے میں اچھی طرح سےان لوگوں کو سمجھا چکا ہوں کہ تم لوگ میرے ساتھ اس طرح مذاق نہ کیا کرو مجھے تکلیف ہوتی ہے، پھر بھی یہ لوگ جان بوجھ کر مجھے اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، اور میں اگر کسی کو کچھ کہدوں تو وہ لوگ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر گھٹیا مذاق کرتے ہیں، اب میری کیفیت یہ ہوگئی ہے کہ اب میرے دل سے زندگی جینے کی خواہش ختم ہوگئی ہے جس طرح اسلام میں ہاتھ سے قتل کرنے والا قاتل ہوتاہے ،تو کیا اپنی زبان سے کسی کو تکلیف دینے والا قاتل نہیں ہوتا، جناب میرا سوال یہ ہے کہ مذاق میں کسی کو تکلیف دینے کی اسلام اجازت دیتا ہے؟ اسلام ایسے لوگوں کے بارے میں کیا کہتا ہے ، جو اپنی خوشی کے لیے دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں ،؟اور کیا میرے صبر پر اللہ مجھے کوئی انعام دے گا؟
کسی مسلمان کو ایذاء دینا چاہے مذاق میں ہو یا عام حالت میں ہو شرعاً ناجائز وحرام ہے، خصوصاً جب کسی کو ہدف بنا کر اس کو تکلیف دی جائے، تو یہ اور زیادہ گناہ کا باعث ہے، ایسے لوگوں کے متعلق احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں، اس لیے مذکور افراد کو چاہیئے کہ اپنے اس ناجائز طرز عمل کو ترک کریں، اور اب تک جو گناہ ہوا ہے اس پر بصدق دل توبہ کریں، جبکہ اس ایذاء رسانی پر صبر کرنا بلاشبہ باعث اجر وثواب ہے۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ» هَذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَلِمُسْلِمٍ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ من لِسَانه وَيَده " (1/10 رقم الحدیث6)۔