لڑکی کی نکاح کے بعد رخصتی ہو گئی، لیکن شوہرسے کوئی تعلق قائم نہیں ہوا ،اور اگلے ہی دن وہ میکے چلی گئی ،اور دو سال سے میکے میں ہی ہے ، شوہر سے کوئی ملاقا ت نہیں کی ، اب دو سال بعد خلع ہو رہا ہے ،اس صورت میں لڑکی کی عدت کا کیا حکم ہے؟
مذکور لڑکی کی رخصتی کے بعد اگر اسکی اپنے شوہر سے خلوت صحیحہ ہو چکی تھی، تو اب خلع یا طلاق کی صورت میں عدت گزارنا لڑکی پر لازم ہوگا۔
کمافی بدائع الصنائع: (وأما) التأكد بالخلوة فمذهبنا وقال الشافعي: لا يتأكد المهر بالخلوة(الی قوله) وعلى هذا الاختلاف وجوب العدة بعد الخلوة قبل الدخول عندنا تجب اھ (2 /291)
وفی المبسوط للسرخسی: وإن كان قد خلا بها فطلاقها وعدتها مثل التي دخل بها لأن الخلوة الصحيحة في حكم العدة بمنزلة الدخول ومراعاة وقت السنة في الطلاق لأجل العدة فتقام الخلوة فيه أيضا مقام الدخول اھ(6/ 291)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0