السلام و علیکم !
امید کرتی ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے ، مفتی صاحب! میں عمرے پر گئی تھی مجھے احرام سے متعلق مسئلہ پوچھنا ہے ، مکہ جاتے ہوئے میں نے غیر ارادی طور سے اپنے ناخن کے ساتھ کی کھال نوچ لی تھی جو کے اکثر نکلتی ہے بوجہ خشک علاقے کے جہاں میں رہتی ہوں،پھر مدینہ سے آتے ہوئے غیر ارادی طور پر ہونٹ کی خشک کھال نوچ لی تھی چونکہ میرے ہونٹ پھٹے ہوئے تھے ، کیا میرایہ عمل غلط ہے ؟ کیا مجھ پردم آتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں دونوں امور کی وجہ سے سائلہ پر دم وغیرہ کچھ بھی لازم نہیں،اس لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔
كما فی رد المحتار: (قوله وقلم الظفر ) اى قطعہ ولو واحداً بنفسه او غيره با مره او قلم ظفر غيره الا اذا انكسر بحيث لا ينمو فلا بأس به اھ (487/2).
و فی بدائع الصنائع : انكسر ظفر المحرم فانقطعت منه شظيه فقعلها لم يكن عليه شئ اذا كان ممالا ينبت لانها كالزائدة ولا نها خرجت عن احتمال النماء فاشبهت شجر الحرم اذا يبس فقطعه انسان انها لا ضمان عليه اھ (195/2)۔
و فی الهندية: انكسر ظفر الحرم وتعلق فأخذه فلا شتى عليه كذافی الكافیاھ(244/1)۔