ہمارے سارے دوست سعودی حکومت کی پابندی کی وجہ سے میقات سے بغیر احرام کے داخل ہوتے ہیں ،اور وہیں جاکر ہی احرام باندھتے ہیں ،تو مفتی محمد شفیع صاحب کے رسالہ " احکامِ حج " میں نظر سے گزرا کہ اگر کوئی سلے ہوئے کپڑوں میں تلبیہ اور نیت کرلے اور ایک دن سے کم میں وہ احرام کی چادریں پہن لے تو دم نہیں بلکہ صدقۃ الفطر کی مقدار صدقہ کرلے ،تو اس کے بارے میں آپ حضرات کی کیا رائے ہے ؟
سائل کے دوست اگر سلے ہوئے کپڑوں میں احرام کی نیت کرکے تلبیہ پڑھ لیں اور ایک دن سے کم میں وہ احرام کی چادریں بھی پہن لے تو اگرچہ صدقۃ الفطر کی مقدار صدقہ کرنے کی صورت میں شرعاً ان کا حج درست ہوجائے گا، لیکن ملکی قانون کی مخالفت کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے ،لہٰذا بلا وجہ قانون کی مخالفت کرنے سے احتراز چاہئیے ۔
کما فی الدر المختار : باب الجنايات : الجناية هنا ما تكون حرمته بسبب الإحرام أو الحرم، وقد يجب بها دمان أو دم أو صوم أو صدقة (إلی قوله)(أو لبس مخيطا) لبسا معتادا، ولو اتزره أو وضعه على كتفیه لا شيء عليه (أو ستر رأسه) بمعتاد إما بحمل إجانة أو عدل فلا شيء عليه (يوما كاملا) أو ليلة كاملة، وفی الأقل صدقة اھ (2/547)۔
و فیه أیضاً : (ومن دعاه الإمام إلى ذلك) أي قتالهم (افترض عليه إجابته) لأن طاعة الإمام فیما ليس بمعصية فرض فكيف فیما هو طاعة اھ (2/264)۔