گناہ و ناجائز

اولاد کا والد کو ناجائز کام سے روکنے اور اس کے خلاف محاذ آرائی کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
26644
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اولاد کا والد کو ناجائز کام سے روکنے اور اس کے خلاف محاذ آرائی کرنے کاحکم

ہم چار بہن بھائی ہیں جن میں دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، دونوں بہنوں کی شادی ہو گئی ہے اور ان کے بچے بھی ہیں ۔ دونوں بھائی ابھی پڑھ رہے ہیں ، ان کی عمریں اکیس اور چوبیس سال ہے۔ میرے والد صاحب کی عمر 60 سال ہے۔ میرے والد کی پوری عمر غیر عورت کے ساتھ تعلقات رہے ۔ اور میں اس فعل کو سخت برداشت کرتی تھیں تاکہ گھر کا ماحول خراب نہ ہو لیکن میرے والد نے ماحول خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اب ایک عورت سے پھر ان کا ناجائز تعلق چل رہا ہے اور وہ عورت ان کے بچے کی ماں بھی بننے والی ہے ، میرے والد اسے سہارا بھی دینا چاہتے ہے، اس کا گندا فعل کرنے کے بعد وہ حج بھی کرنے گئے ، ہمیں امید تھی کہ وہ بدل جائیں گے، مگر انہوں اللہ کے گھر میں ہوتے ہوئے بھی اس سے تعلق رکھا اور حج سے واپس آنے کے بعد ان کےہاں رہنے بھی لگے اور ہر وقت فون اور میسج پر بات چلتی رہتی ہے ۔ ہم لوگوں نے ان کو سمجھانے کی بہت کوشش بھی کی، مگر وہ نہ سدھرے ، ہم لوگ نہیں چاہتے کہ میرے والد اس سے شادی کریں کیونکہ وہ خاتون پہلے ہی دو شادیاں کر چکی ہے ، طلاق یافتہ ہے اور کام کرتی ہے اور کئی ناجائز تعلقات رہ چکے ہیں، مگر میرے والد صاحب کو ان کی باتوں پر کوئی دھیان نہیں، وہ کہتے ہیں کہ کیا ہوا اگر ایسا ہو گیا تو میں اسے سہارا دوں گا۔ اب ہم سب بڑے ہوئے ہیں اور یہ باتیں ہمیں برداشت نہیں ہوتیں ، ہم چاہتے ہیں کہ وہ اب ان حرکات سے باز آجائیں اور اللہ اللہ کریں ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں اگر:
(1) والد صاحب والدہ پر ہاتھ اٹھائیں تو انہیں روکنا چاہیے یا غصہ سے بات کرنی چاہیے ؟
(2) تحریری طور پر اگر معاہدہ کر لیں کہ انہوں نے اگر اس سے شادی کی تو ہمارا ان سے کوئی تعلق نہ ہوگا ؟
(3) ان پر قانونی طور پر کیس کر لینا کیسا ہے ؟
(4) ہماری والدہ کا کیا رویہ ہونا چاہیے ؟ کیا وہ خلع لے سکتی ہیں ؟
(5) گھرامی کے نام پر ہے تو کیا والد صاحب کا اس سے کوئی تعلق ہے؟
(6) ان حالات میں ان کی بات نہ ماننا اور صحیح کا ساتھ دینا درست ہوگا ؟


الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کے والد کا غیر محرم اجنبی عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھنا قطعاً نا جائز و حرام ہے ، اگر اسلامی قانون نافذ العمل ہوتا تو ان کا یہ جرم ثابت ہونے پر ان پر حد زنا بھی جاری کی جاتی، تاہم اگر سائلہ کا والد صاحب استطاعت ہوں اور دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کو خرچہ اور دیگر حقوق وغیرہ دے سکتے ہوں، اور دونوں کے در میان انصاف کے تقاضے بھی پورے کر سکتے ہوں ،تو اولاد کو چاہیے کہ ان کو گناہ والی زندگی سے روکنے کی غرض سے دوسری شادی کی ترغیب دیں، ان کو روکنا یا اس کے خلاف محاذ آرائی کرنا درست نہیں، بلکہ گناہ ہے، ان کے ساتھ نرمی سے بات کرنی چاہیے ۔ اور ماں باپ کی لڑائی کی صورت میں دونوں کا احترام ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اور اُن کے ساتھ بے اکرامی سے احتراز کرنا چاہیے ۔ والدہ کو بھی چاہیے کہ مناسب انداز میں انہیں باز رکھنے کی سعی کریں اور خلع کے مطالبہ سے احتراز کرے، جبکہ مذکور مکان والد کا خریدا ہوا ہو اور فقط کا غذات میں والدہ کے نام ہو تمام تصرفات والد خود کرتے ہوں تو اس صورت میں یہ مکان بھی والدہ کا نہیں بلکہ بدستور والد ہی کی ملکیت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: {وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا } [الإسراء: 32]
و في مشكاة المصابيح: عن تميم الداري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الدين النصيحة» ثلاثا. قلنا: لمن؟ قال: «لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم» . رواه مسلم اھ (3/ 1387) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 26644کی تصدیق کریں
0     4
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات