میں سرکاری ملازم ہوں، ایک سرکاری دورہ کے دوران جب میرے ہاتھ سرکاری گاڑی کا ایکسڈنٹ ہوا جس گاڑی کا نقصان ہوا، گاڑی بنوانے کے لئے ادارہ کے پیسے خرچ کرنے کی اجازت ہوتی ہے، اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ آپ باہر سفر میں ہی ہوں، اور گاڑی خراب ہوجائے تو آپ ادارہ کے پیسوں سے اسے صحیح کرلیں اور بعد میں حساب کتاب کرلیں ، میں نے بھی وہی کیا لیکن خرابی کارگردگی کی بدنامی کے خوف سے میری اور ڈرائیور کی ہم نے اسی خرچہ کو دوسری مد میں شو کیا جو حقیقت کے خلاف ہے، اگرچہ ہم نے سرکار سے ہی پیسے وصول کرلیے لیکن اس طرح کرنا صحیح تھا، یا حقیقت ظاہر کرنا چاہیے تھا، جس کی وجہ سے میری اور ڈرائیور کی پوچھ گچھ ہوتی ہو؟
ادارہ سے جو رقم لی گئی ہے وہ اگر واقعی اخراجات کے مطابق ہو تو اس کا لینا بلاشبہ جائز اور درست ہو اہے، تاہم اگر دوران سفر کے تمام خرچے اور ان کے اسباب بیان کرنا ضروری ہو تو غلط بیانی کی وجہ سے سائل اور اس کا ڈرائیور دونوں گناہ گار ہوئے ہیں، جس پر بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے ایسی حرکات سے اجتناب لازم ہے، اور اگر محض کل اخراجات بیان کرکے ان کی ادائیگی کردی جاتی ہو تو اس صورت میں بھی اگر چہ تفصیل بتانا اور بیان کرنا بہتر، مگر لازم نہیں۔
و فی الدر: والاصل ان المستحق بجھۃ اذا وصل الی المستحق بجھۃ اخری اعتبر واصلاً بجھۃ مستحقۃان وصل الیہ من المستحق علیہ والا فلا الخ (5/96)۔