گناہ و ناجائز

زنا سے پیدا ہونے والے بچے کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
27219
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

زنا سے پیدا ہونے والے بچے کی شرعی حیثیت

آج کل لڑکوں اور لڑکیوں کی دوستی عام ہے، اور کئی لڑکے اور لڑکیاں حد ہی پار کر دیتی ہیں یعنی وہ بد فعلی پر اتر آتے ہیں ،اور اس سے بچہ پیدا ہو جاتا ہے، تو میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ معاشرے میں زنا سے پیدا ہونے والے بچے کی شرعاً کیا حیثیت ہوگی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زنا سے پیدا ہونے والا بچہ ولدِ حرام کہلاتا ہے، اور وہ ثابت النسب نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ اپنے زانی والد کی میراث میں حقدار بھی نہیں ہوتا، اسی لئے اسلامی معاشرہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، لہذا مسلمان حکومت اور خود مسلمان لڑکے اور لڑکیوں کو اس قسم کی حرام کاری پر قدغن لگانے اور اس سے دور رہنے اور اپنی اولاد کو دربدر ہونے اور رسوائی سے بچانے کا اہتمام چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: وكل من ولد الزنا وولد اللعان: لا توارث بينه وبين أبيه وقرابة أبيه بالإجماع، وإنما يرث بجهة الأم فقط؛ لأن نسبه من جهة الأب منقطع، فلا يرث به، ومن جهة الأم ثابت، فنسبه لأمه قطعاً؛ لأن الشرع لم يعتبر الزنا طريقاً مشروعاً لإثبات النسب، ولأن ولد اللعان لم يثبت نسبه من أبيه. اھ (10/ 7905)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حبیب اللہ قاسم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27219کی تصدیق کریں
0     636
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات