اگر استاد کسی کی جیب سے کوئی چیز نکال کر اپنے استعمال میں لگادے پھر واپس نہ دے تو کیا یہ جائز ہے؟ اور اسی طرح اگر کوئی استاد اپنے شاگرد سے زبرستی دعوت کھاتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ جیب میں خالی بٹوا یا کوئی لگانے کی کریم ہو تو پھر؟ یا کوئی سامان نکالیں اور واپس نہ کریں تو یہ جائز ہے؟
اگر باہم ایسی بے تکلفی ہو کہ اس کو محسوس نہ کیا جاتا ہو تو اس صورت میں استاد کا شاگرد سے کھانا اور اسکی کوئی معمولی چیز جس کے لینے کو عرفاً برا نہ سمجھا جاتا ہو لیکر استعمال کرنا شرعاً بھی جائز ہے ورنہ نہیں۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: وقال قتادۃ ان أکلت من بیت صدیقک بغیر إذنہ فلا بأس لقولہ (او صدیقکم) وروی أن اعرابیًا دخل علی الحسن فرأی سفرۃ معلقۃ فأخذہا وجعل یأکل منہا فبکی الحسن فقیل لہ ما یبکیک فقال ذکرت بما صنع ہذا اخوانًا لی مضوا یعنی انہم کانوا ینبسطون فی مثل ذلک ولا یستأذنون وہذا ایضًا علی ماکانت العادۃ قد جرت بہ منہم فی مثلہ اھ (ج:۳ ص: ۳۳۵) واللہ اعلم