السلام علیکم مفتی صاحب ہم فیکٹری سے سینیٹری کا سامان دوکانداروں کو سیل کرتے ہیں اور دوکانداروں کو سیل ٹارگٹ دیتے ہیں اور ٹارگٹ پورا کرنے پر سال کے آخر پر اضافی ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں جو کہ زیادہ ٹارگٹ والے کو زیادہ ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے اور کم ٹارگٹ والے کو کم ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے اور جو ٹارگٹ پورا نہ کریں اس کو کوئی اضافی ڈسکاؤنٹ نہیں دیا جاتا کیاایسا کرنا جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں کمپنی کا دوکانداروں کی ترغیب کے لیے مختلف سیل ٹارگٹ دینا، اور ٹارگٹ پورا کرنے والوں کو انکی کارکردگی کی بنیاد پر بطور انعام ڈسکاؤنٹ دینا شرعاً جائز اور درست ہے۔
کما فی الھدایۃ: و یجوزللبائع ان یزید للمشتری فی المبیع و یجوز ان یحط من الثمن الخ (۳/ ۵۹) واللہ اعلم بالصواب