مباحات

طلباء اور ملازمین کیلئے تصویر والے کارڈ بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
30688
| تاریخ :
2017-04-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

طلباء اور ملازمین کیلئے تصویر والے کارڈ بنانے کا حکم

سلام عرض ہے کہ ہم طلباء وطالبات کے ’’سٹوڈنٹ کارڈ‘‘ بنانے کا کاروبار کرتے ہے، کارڈ پر طالب علم کا نام رول نمبر اور تصویر (فوٹو گراف) موجود ہوتی ہے، کارڈ دکھا کر ادارہ (سکول و کالج ، دفتر) میں داخلہ ہوتا ہے، کارڈ بنانے کے لیے کیمرے سے فوٹو گراف لیا جاتا ہے، تاکہ سکین کر کے لگایا جائے، ایسے کارڈ بنانا، ان کے لیے کیمرے سے فوٹو گراف لینا اور اس قسم کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اس تصویر کا مقصد صرف کارڈ بنانا ہے، براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور قسم کے کارڈ کا کاروبار کرنا جائز ہے، جبکہ بوقت ضرورت تصویر کی بھی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی تکملۃ فتح الملہم: هذا هو حکم الصورۃ فی الأصل (إلی قولہ) فإن الفقہاء استثنوا مواضع الضرورۃ من الحرمۃ، قال الإمام محمدؒ فی السیر الکبیر: وإن تحققت الحاجۃ لہ إلی استعمال السلاح الذی فیہ تمثال فلابأس باستعمالہ (إلی قولہ) لأن مواضع الضرورۃ مستثناۃ من الحرمۃ۔ اھ (۴/۱۶۴)
وفی شرح المجلۃ: (تحت المادۃ ۲۱ الضرورات تبیح المحظورات) ھذہ قاعدۃ اصولیۃ مأخوذۃ من النص وھو قولہ تعالیٰ (إلا ما اضطررتم إلیہ) والإضطرار الحاجۃ الشدیدۃ، والمحظور المنہی عنہ فعلہ، یعنی الممنوع شرعاً یباح عند الضرورۃ اھ (۱/۵۵) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعارف عبدالرحمن عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 30688کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات