سوال : آج کل شادی ہال اور بینکویٹ میں بلاشبہ اسراف سے کام لیاجاتا ہے، فوٹو گرافی وغیرہ بھی کی جاتی ہے، تو اسراف تو اپنی جگہ ہے، لیکن اگر اس کے علاوہ اور دوسری معصیت نہ ہو، مثلاً: فوٹوگرافی نہ ہو، میوزک اور گانے وغیرہ نہ ہوں، عورتوں اور مردوں کا مخلوط اجتماع بھی نہ ہو، عرض یہ کہ شادی ہال یا بینکویٹ میں مروجہ روشنی اور سجاوٹ کے انتظام کے علاوہ کوئی اور دوسری معصیت نہ ہو اور والدین بھی حکماً کہہ رہے ہوں کہ تمہیں چلنا ہوگا اور شادی میں نہ جانے کی صورت میں والدین اور اعزہ واقرباء کی ناراضگی یقینی ہو، تو پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس صورت میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے درج ذیل ملفوظ پر عمل کیا جاسکتا ہے؟ تقوی کے مقابلہ فتویٰ کو کب ترجیح ہوتی ہے؟ فرمایا کہ حکم شرعی یہ ہے کہ اگر تقویٰ کے کسی خاص درجے پر عمل کرنے سے دوسرے کی دل شکنی ہو تو فتویٰ پر عمل کرنا چاہیے۔ ایسے موقع پر تقویٰ کی حفاظت جائز نہیں، چنانچہ کسی چیز کے نہ لینے میں اگر اپنی عزت ہو اور اپنے بھائی کی ذلت ہو اور لینے میں اپنی تو ذلت ہو، لیکن بھائی کی عزت ہو تو بھائی کی عزت کو اپنی عزت پر ترجیح دے، یہ ایثارِ نفس ہے۔ ملفوظات اشرفیہ: ص:۳۷۲
کسی بھی تقریب میں جب سوال میں درج منکرات نہ ہوں تو اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ خاص کر جب شرکت نہ کرنے میں قطع رحمی اور گھریلو مسائل کھڑے ہونے کا اندیشہ ہو، جبکہ ذکر کردہ ملفوظ کا بھی یہی مفہوم نکلتا ہے۔
کما فی الدر المختار: ويستحب التجمل وأباح الله الزينة بقوله تعالى - {قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده} [الأعراف: 32]- الآية وخرج - صلى الله عليه وسلم - رداء قيمته ألف دينار زيلعي) 755/6)۔
وفی الشامیۃ: تحت (قوله ويستحب التجمل إلخ) قال - عليه الصلاة والسلام - «إن الله تعالى إذا أنعم على عبده أحب أن يرى أثر نعمته عليه» وأبو حنيفة كان يتردى برداء قيمته أربعمائة دينار، وكان يأمر أصحابه بذلك الخ ( ۶/۷۵۵)۔
و فی الشامیۃ : تحت (قوله والملاهي) كالمزامير والطبل، وإذا كان الطبل لغير اللهو فلا بأس به كطبل الغزاة والعرس لما في الأجناس: ولا بأس أن يكون ليلة العرس دف يضرب به ليعلن به النكاح.(۶/۵۵)۔
و فی الشامیۃ: تحت(قوله وصلة الرحم واجبة) نقل القرطبي في تفسيره اتفاق الأمة على وجوب صلتها وحرمة قطعها للأدلة القطعية من الكتاب والسنة على ذلك قال في تبيين المحارم: واختلفوا في الرحم التي يجب صلتهاالخ (۶/۴۱۱)۔
و فی الشامیۃ: تحت(قوله دعي إلى وليمة) وهي طعام العرس وقيل الوليمة ( الی قولہ) اختلف في إجابة الدعوى قال بعضهم: واجبة لا يسع تركها وقال العامة: هي سنة، والأفضل أن يجيب إذا كانت وليمة وإلا فهو مخير والإجابة أفضل، لأن فيها إدخال السرور في قلب المؤمن وإذا أجاب فعل ما عليه أكل أو لا، والأفضل أن يأكل لو غير صائم وفي البناية إجابة الدعوة سنة وليمة أو غيرها، وأما دعوة يقصد بها التطاول أو إنشاء الحمد أو ما أشبهه فلا ينبغي إجابتها لا سيما أهل العلم فقد قيل ما وضع أحد يده في قصعة غيره إلا ذل له اهـ ط ملخصا. وفي الاختيار: وليمة العرس سنة قديمة إن لم يجبها أثم لقوله - صلى الله عليه وسلم - «من لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله، فإن كان صائما أجاب ودعا، وإن لم يكن صائما أكل ودعا، وإن لم يأكل ولم يجب أثم وجفا» لأنه استهزاء بالمضيف وقال - عليه الصلاة والسلام - «لو دعيت إلى كراع لأجبت» اهـ. ومقتضاه أنها سنة مؤكدة، بخلاف غيرها وصرح شراح الهداية بأنها قريبة من الواجب.اھ(۶/۳۴۷)۔و اللہ اعلم بالصواب