السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
میرا نام ادریس خان ہے، اسلام آباد سے۔ مفتی صاحب میں نے شیخ مکی الحجازی صاحب کا ایک بیان سنا جس میں وہ فرمارہے تھے کہ عورتوں کا ختنہ اسلام میں جائز ہے، آج کل لوگ عورتوں کاختنہ نہیں کرتے کیا ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
جواب اگر تحریری مل جائے تو بہتر ہوگا، پی ڈی ایف میں۔ شکریہ
لڑکیوں کا ختنہ کروانا اگرچہ جائز ہے مگر کوئی لازم اور ضروری نہیں، اس لئے اگر کوئی لڑکیوں کا ختنہ نہ کرائے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت بھی نہیں۔
کما فی سنن أبی داؤد: عن أم عطیۃ الأنصاریۃ: أن امرأۃ کانت تختن بالمدینۃ، فقال لہا النبی ﷺ: ’’لا تنہکی، فإن ذلک أحظی للمرأۃ، وأحب إلی البعل‘‘۔ (ج۷، ص۵۴۱)۔
وفی الدر: وختان المرأۃ لیس سنۃ بل مکرمۃ للرجال وقیل سنۃ۔ اھـ (ج۶، ص۷۵۱)۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ بل مکرمۃ للرجال) لأنہ ألذ فی الجماع زیلعی (قولہ وقیل سنۃ) جزم بہ البزازی معللا بأنہ نص علی أن الخنثی تختن۔ إلخ (ج۶، ص۷۵۱) واللہ اعلم بالصواب