مباحات

انتظامیہ کا طلباء سے چھٹیوں کی فیس وصول کرکے اساتذہ کو تنخوا نہ دینا

فتوی نمبر :
51177
| تاریخ :
2020-10-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

انتظامیہ کا طلباء سے چھٹیوں کی فیس وصول کرکے اساتذہ کو تنخوا نہ دینا

السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علما کرام اس مسلے کے بارے میں کہ اکثر پرائیویٹ سکولز اور کالجز گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس تو طلبا سے وصول کر لیتے ہیں لیکن اُن چھٹیوں کی تنخواہ اساتذہ کو نہیں دیتے۔ اگر بچوں کو بغیر پڑھاۓ فیس وصول کر لی جاتی ہے تو کیا اساتذہ کو تنخواہیں نہیں ملنی چاہئیں؟ کیا سکول انتظامیہ کےلیے ایسی کمائی حرام ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگراسکول جوائن کرتے وقت اساتذہ کے ساتھ معاہدہ میں اس بات کی وضاحت کی جاتی ہو،کہ اساتذہ کو سالانہ چھٹیوں کی تنخواہ نہیں ملے گی، اور اساتذہ بھی اس معاہد ہ پر رضامندی کا اظہارکرکے اسکول جوائن کرتے ہوں، تو بعد میں اساتذہ کے لیے اسکول انتظامیہ سے چھٹیوں کے تنخواہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں، اور اس کا طلبہ سے فیس وصول کرنے سے شرعا کوئی تعلق نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

رد المحتار (ج 17 / ص 279):
” قال الفقيه أبو الليث :ومن يأخذ الأجر من طلبة العلم في يوم لا درس فيه أرجو أن يكون جائزا وفي الحاوي إذا كان مشتغلا بالكتابة والتدريس . “
الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 118):
”ومنها : البطالة في المدارس كأيام الأعياد ويوم عاشوراء وشهر رمضان في درس الفقه : لم أرها صريحة في كلامهم والمسألة على وجهين : فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء وإلا : فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي
وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب من بيت المال في يوم بطالته فقال في المحيط : إنه يأخذ في يوم البطالة لأنه يستربح لليوم الثاني وقيل: يأخذ انتهى. “

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51177کی تصدیق کریں
0     1888
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات