مباحات

عمرہ پر جانے کیلئے کمیٹی ڈالنا

فتوی نمبر :
33964
| تاریخ :
2018-04-18
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / مباحات

عمرہ پر جانے کیلئے کمیٹی ڈالنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمرہ کمیٹی لگانا کیسا ہے؟
اس کی تفصیل:
ماہانہ قسط 3500 روپے، ممبران کی کل تعداد: 50تا 70، قسط کا دورانیہ 30 ماہ۔
ہر ماہ عمرہ کمیٹی کی قرعہ اندازی ہوگی، خوش نصیب ممبر کو عمرہ کی سعادت حاصل ہوگی، جس کے لیے ۲۱ دن پیکج کا انتظام ہم کریں گے، قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے تمام ممبران بھی کل ۳۰؍ اقساط 3500 روپے کے حساب سے جمع کروائیں گے آخر میں رِہ جانے والے تمام ممبران بھی عمرہ کی سعادت حاصل کریں گے۔
ہر ممبر کل رقم مبلغ 105000 روپے ۳۰ برابر اقساط یعنی 3500 روپے ماہانہ جمع کروائے گا۔
انتظامیہ کمیٹی تمام ممبران کو مندرجہ بالا کل رقم میں عمرہ کروانے کی پابند ہوگی۔
پیکج ۲۱؍ دن کے موجودہ قیمت ۸۰ تا ۸۵ ہزار روپے ہے ایسی صورت میں باقی ماندہ رقم بطورِ منافع وصول کرنے کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے؟
جبکہ عرصہ ۳۰ ماہ میں انتظامیہ کمیٹی کو پیکج کے اُتار چڑھاؤ کی صورت میں نفع و نقصان ہوسکتا ہے۔
برائے مہربانی درج بالا کاروبار کے بارے میں فتویٰ جاری فرماکر رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور طریقہ کے مطابق ہر ماہ تمام ممبران سے کمیٹی کی رقم جمع کرکے قرعہ اندازی کے ذریعہ جس کا نام نکل آئے اس کو عمرہ کیلئے بھیج دیا جاتا ہو ٹکٹ اور آمد و رفت کے اخراجات کے علاوہ جو رقم منتظمہ کمیٹی وصول کرتی ہو وہ ممبران کی اجازت سے اپنی اجرت میں وصول کرتی ہو تو اس طریقہ سے رقم جمع کرکے عمرہ پر جانا اور منتظمہ کمیٹی کا اضافی پیسہ لینا دونوں جائز اور درست ہے ورنہ سوال کو دوبارہ وضاحت کے ساتھ لکھ کر حکم شرعی معلوم کرسکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الشامیۃ: تحت (قولہ: ورجح فی البحر الإطلاق) حیث قال: وأما أجرۃ السمسار والدلال فقال الشارح الزیلعی: إن کانت مشروطۃ فی العقد تضم، وإلا فأکثرہم علی عدم الضم فی الأول، ولا تضم أجرۃ الدلال بالإجماع۔ اھـ (ج۲، ص۵۹۵) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رشید رضا عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 33964کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات