گناہ و ناجائز

بدعات والی مجالس میں شرکت کا حکم

فتوی نمبر :
27364
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بدعات والی مجالس میں شرکت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص جو دینِ اسلام کے تمام ارکان مانتا اور ان پر عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسول ﷺ کی رسالت، کتبِ سماویہ , انبیاء کرام، ملائکہ، روزِ حشر ومعاد، حسابُ وکتاب پر ایمان رکھتا ہو،نماز پڑھتا ہو، ذکر اللہ و ذکرِ رسول کے حلقے منعقد کراتا ہو، دلوں کو ذکرِ الٰہی، و عشقِ مصطفٰی سے گرماتا ہو، مذہبِ امام اعظم ابوحنیفہ کا داعی ہو، مسلکِ امامِ اہلسنت شاہ احمد رضا کا پیروکار ہو تو ایسے شخص کی محافل میں شریک ہونا اور فیض حاصل کرنا جائز ہے، یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اس شخص کے عقائد ونظریات اور جس کی وہ دعوت دیتا ہے، اس کو ذکر نہیں کیا، تاہم اگر وہ شرکیہ عقائد نہ رکھتا ہو اور بدعات ورسومات کا عامل نہ ہو، بلکہ اتباعِ سنت کی دعوت دیتا ہو اور خود بھی متبعِ سنت ہو اور اہلِ علم کا اس پر اعتماد ہو، اور لوگوں کی اصلاح، اس کی صحبت میں بیٹھنے سے ہوتی ہو تو اس کی مجلس میں بیٹھنا جائز اور باعثِ ہدایت ہے، ورنہ احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکٰوۃ المصابیح: عن ابی ھریرۃ وابی سعید قالا: قال رسول اللہ ﷺ : لایقعد قوم یذکرون اللہ الا حفتھم الملٰئکة وغشیتھم الرحمة ونزلت علیھم السکینة وذکرھم اللہ فیمن عندہ رواہ مسلم اھ (1/198)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلیم اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27364کی تصدیق کریں
0     546
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات