گناہ و ناجائز

کسی غیر رجسٹر کمپنی کا نام اپنی کمپنی کے لئے تجویز کرنے کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
27680
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی غیر رجسٹر کمپنی کا نام اپنی کمپنی کے لئے تجویز کرنے کی شرعی حیثیت

ایک پنکھوں کی فیکٹری ہے، جس کا نام کافی مشہور ہے، لیکن وہ رجسٹرڈ نہیں ہے ، ہم بھی اسی نام سے فیکٹری بنانا اور اسے رجسٹر کروانا چاہتے ہیں، لیکن جب ہم اس نام کی فیکٹری رجسٹر کروالیں گے تو قانون کے مطابق پہلے والی فیکٹری کو اپنا نام تبدیل کرنا پڑے گا، کیا ہمارا اس طرح کرنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

پہلے سے ایک جب ایک فیکٹری ایک نام سے متعارف ہے اور وہ پنکھے تیار کر رہی ہے، تو اس نام سے دوسری فیکٹری رجسٹر کروا کر قانونا نام بدلنے یا انہیں بلاوجہ مشکل میں ڈالنا جائز نہیں، اس لیے دوسری فیکٹری بنانے والے کو چاہیے کہ نئے کسی نام سے اپنی فیکٹری رجسٹر کروائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في فقه البيوع : أما المسئلة الأولى : فإن استخدام الاسم التجاري وإن كان حقاً فإنه ثبت لصاحبه إصالة بحكم الأسبقية وبالتسجيل الحكومي (إلى قوله ) : أما المسئلة الثانية - وهي هل يتضمن نقل الاسم التجاري أو العلامة التجارية الغش والخداع ؟ فالجواب أنه إذا لم يقع الافصاح العام بأن الاسم التجارى أو العلامة التجارية انتقلت إلى جهة أخرى ولم تلتزم الجهة المشترية بالحفاظ على نفس المستوى للمنتج في الجورة فلا شك ان في ذلك غشا وخداعا وهو حرام بالنص اھ (۱/ ۲۷۷، ۲۷۸) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
راضی سلیمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27680کی تصدیق کریں
0     276
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات