گناہ و ناجائز

عورت کا نوکر ی کی غرض سے بائر نکلنا اور نوکری کرنا

فتوی نمبر :
27772
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عورت کا نوکر ی کی غرض سے بائر نکلنا اور نوکری کرنا

مفتی صاحب! میرا شوہر پراپرٹی ایجنٹ ہے،ان کو کبھی کمیشن ملتا ہے ،کبھی نہیں ملتا، اور کبھی تو دس دس مہینے ہو جاتے ہیں، کوئی آمدنی نہیں ہوتی، اس لئے میں نوکری کرتی ہوں ،اور گھر کا سارا خرچہ میرے ہی تنخواہ سے ہوتا ہے،میرے دو بچے ہیں، ان کی بھی سارے ضرورتیں میری ہی تنخواہ سے پورے ہوتے ہیں، میں حجاب کرتی ہوں، لیکن چہرہ کھلا رہتا ہے، میں بلا ضرورت کسی نامحرم سے بات بھی نہیں کرتی، نیچی نکاہ سے جاتی ہوں ،اور نیچی نگاہ سے کام کرتی ہوں، اس صورت حال میں میرا نوکری کرنا صحیح ہوگا؟ اور کیا مجھے بھی مردوں کی طرح اپنے آمدنی گھر والوں پے خرچ کر کے صدقہ کا ثواب ملے گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عورت کیلئے حکم یہ ہے کہ وہ بلا ضرورت گھر سے نہ نکلے، اور اپنے ذمہ واجب گھریلو امور انجام دے ،یہی وجہ ہے کہ شریعت نے عورت کے نان ونفقہ کی ذمہ داری کبھی اس کے والد پر اور کبھی اس کے شوہر وغیرہ پرعائد کی ہے، لہٰذا بلاضرورت عورت کا نوکری کیلئے گھر سے باہر نکلنا درست نہیں، تاہم اگر کمانے والا کوئی نہ ہو تو عورت نوکری کر سکتی ہے، بشرطیکہ باپردہ ہو کر جائے اور کام کی جگہ پر نا محرم مردوں سے اختلاط نہ ہو، شوہر کی طرف سے اجازت ہو اور نوکری بھی جائز ہو۔ تو سائلہ کا مذکور شرائط کے ساتھ ضرورت کی وجہ سے ملازمت کرنا جائز اور درست ہے۔ جبکہ سائلہ کو بھی اپنی آمدنی گھر والوں پر خرچ کرنے کی صورت میں ثواب ملے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (و) لها (النفقة) بعد المنع (و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة) (3/ 145)۔
وفى مشكاة المصابيح: عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "المرأة عورة فإذا خرجت استشرفها الشيطان". رواه الترمذي (2/ 205)۔
وفيه ايضاً: وعن أبي مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا أنفق المسلم نفقة على أهله وهو يحتسبها كانت له صدقة "(متفق عليه) (1/ 435) ۔ واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حنیف اللہ خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27772کی تصدیق کریں
0     695
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات