گناہ و ناجائز

مخلوط تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلوانا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
27932
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مخلوط تعلیمی اداروں میں بچوں کو تعلیم دلوانا جائز ہے؟

السلام علیکم! مفتی صاحب! دور جدید میں اچھی تعلیم صرف مخلوط تعلیمی ادارے فراہم کرتے ہیں، بات رہی سرکاری اداروں کی نہ ان میں تعلیم نہ استاد اچھے۔ تو کیا ہم ان مخلوط اداروں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مخلوط تعلیمی اداروں کے علاوہ بھی ایسے ادارے ہیں جہاں لڑکے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے علیحدہ انتظام ہے، سائل اس طرح کا تعلیمی ادارہ تلاش کر کے اپنے بچوں کو وہاں داخل کرا سکتا ہے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اپنے بچوں کو فتنہ میں ڈالنے سے سرکاری اسکول میں پڑھا دینا اور مقامی حکومت سے تعلیمی نظام کو درست کرنے کی درخواست کر نا زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء اللہ اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 27932کی تصدیق کریں
0     21
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات