میں نے اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دیا ہےاور 6 اگست 2015 سےاپنے والدین کےساتھ رہنا شروع کردیا ہے،اس کے بعد اکتوبرکے مہینہ میں میرا بچہ ساقط ہوا،میرے شوہر نے مجھے 12 اپریل 2016 میں طلاق دی ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں تین ماہ کی عدت گزاروں گی کیونکہ میں تو اگست سے اس کےساتھ نہیں رہ رہی ہوں اور اکتوبر کے مہینہ میں میرا اسقاط ہوا ہے، یا پھر میں بغیر عدت گزارے دوبارہ شادی کر سکتی ہوں ؟
میاں بیوی کے علیحدہ رہنے سے عدت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اس لئے سائلہ کی عدت بارہ اپریل کے بعد تین ماہواریاں ہونگی جب تین ماہواریاں گزر جائیں تو عدت مکمل ہو جائے گی ۔
کمافی الدرالمختار: (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) الخ(3/520)۔
وفیہ ایضاً: وأنواعها حيض، وأشهر، ووضع حمل كما أفاده بقوله (وهي في) حق (حرة) ولو كتابية تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيا(الی قولہ) (ثلاث حيض كوامل) لعدم تجزي الحيضةالخ(3/504)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0