اگر عورت حمل سے ہو اور اسے طلاق ہو جائے، تو کس مہینے تک اسقاط حمل جائز ہوتا ہے ؟ اگر اسقاط حمل نہ کرایا جائے ، تو پیدائش کے بعد بچہ کس کے پاس رہے گا ؟ کیا کچھ سال بعد بچہ شوہر کے حوالہ کرنا ضروری ہوتاہے؟
بلا کسی عذر کے اسقاط حمل کر انا جائز نہیں، بلکہ گناہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی عذر مثلا بچوں کے درمیان مناسب وقفہ کی غرض سے یا ماں کی بیماری، کمزوری وغیرہ کی وجہ سے کسی مسلمان ماہر ڈاکٹرکی ہدایت کے مطابق چار ماہ سے پہلے اسقاط حمل کرایاجائے تو اسکی گنجائش ہے، مگر چارماہ کے بعد اسقاط حمل قتل نفس کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے، جس سے احتر از لازم ہے۔
جبکہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بچہ کی عمر سات سال اور بچی کے بالغ ہونے (جس کی کم سے کم مدت نو سال ہے ) تک پرورش کی زیادہ حقدار ان بچوں کی ماں ہے، بشر طیکہ بچوں کی ماں ان کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، یا اپنے اس حق سے دستبردار نہ ہو جائے ، ان عمروں کے بعد والد اپنے بچے کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے۔
كما في الدر المختار: ويكره أن تسقى لإسقاط حملها ... وجاز لعذر حيث لا يتصور اھ (6/ 429)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية اھ (6/ 429)
و في الفتاوى الهندية: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها هكذا في النهر الفائق ولا تجبر عليها في الصحيح لاحتمال عجزها اھ (1/ 541)
وفيها ايضا : والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض و في نوادر هشام عن محمد رحمه الله تعالى إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين اھ (1/ 542)
وفيها ايضا : وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة اھ (1/ 541) واللہ اعلم بالصواب
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0