گناہ و ناجائز

گھر یا دکان میں ایرانی تبرکات رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
29687
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گھر یا دکان میں ایرانی تبرکات رکھنے کا حکم

تبرکات جو اکثر لوگ ایران سے لاتے ہیں، جیسے پنجے وغیرہ , ان چیزوں کا گھر میں رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور ا شیاء تبرکات نہیں،بلکہ یہ روافض کی علامات اور شعار پر مشتمل ہیں،ان کے بارے میں تبرکات کا نظریہ یا خوش عقیدگی رکھنا قطعاً جائز نہیں،اس لئے ان کو اپنے گھروں،اپنی دکانوں میں لٹکانے سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في صحيح البخاري: عن عايشة رضی فى الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد (1/371)
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : قال الزيلعي: ثم الرتيمة قد تشتبه بالتميمة على بعض الناس: وهي خيط كان يربط في العنق أو في اليد في الجاهلية لدفع المضرة عن أنفسهم على زعمهم، وهو منهي عنه وذكر في حدود الإيمان أنه كفر اهـ. (6/ 363)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 29687کی تصدیق کریں
0     502
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات