یہاں یو اے ای(UAI) میں ہر کار کی انشورنس کی جاتی ہے، اگر ایکسیڈنٹ ہو جائے تو انشورنس کمپنی تمام اخراجات اٹھاتی ہے، کیا یہ انشورنس جائز ہے؟
واضح ہو کہ انشورنس ’’بیمہ پالیسیاں‘‘ جوئے قمار اور سودی معاملات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، اس لیے انشورنس خواہ زندگی سے متعلق ہو، یا دیگر اموال سے، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ کسی ملک کی طرف سے انشورنس پالیسی کو اگرقانوناً لازم قرار دیا گیا ہو، اور اس کو اختیار کیے بغیر گاڑی یا دیگر اموال اور سہولیات سے فائدہ اُٹھانا ملکی قانون کے اعتبار سے ناممکن یا بہت زیادہ دشوار ہو تو اس صورت میں بأمرِ مجبوری بقدر ضرورت ایسی پالیسی اپنانے کی شرعاً بھی گنجائش ہو جاتی ہے۔
كما قال الله تعال : ﴿يٰا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوه لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، (المائدة 90)والله اعلم بالصواب!
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0