کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی ہے ،جو ٹی وی بناتی ہے، کیا ایسے کمپنی کو ویب سائٹ ، سوفٹ وئیر یا email idبنا کر دینا جائز ہے؟ یاد رہے ہم جو ویب سائٹ بنا کر دیں گے اس سے یہ اپنی ٹی وی کی تشہیر کریں گے لوگ ان سے ٹی وی خرید نے کے لئے ہماری بنائی ہوئی ویب سائٹ یا email id سے رابطہ کریں گے ؟
ایسا ویب سائٹ یا سوفٹ ویئر جس کا استعمال معصیت اور غیر معصیت دونوں میں ہو سکتا ہو، کسی کو بھی بنا کر دینا اور اس پر اجرت لینا جائز اور درست ہے، چنانچہ سائل مذکور کمپنی کو سوفٹ وئیر اور ویب سائٹ بنا کر دے سکتا ہے ۔
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل اھ (6/ 391) ۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: يجوز للشخص عند أبي حنيفة أن يؤجر نفسه أو سيارته أو دابته بأجر لتعمير كنيسة، أو لحمل خمر ذمي، لا لعصرها؛ لأنه لا معصية في الفعل عينه، لأن عقد الإجارة على الحمل ليس بمعصية ولا سبب لها، وإنما تحصل المعصية باختيار الشارب، وقد يكون حملها للإراقة أو التخليل. (إلی قوله) وقال الصاحبان والأئمة الثلاثة: لا ينبغي كل تلك الإجارات، وهي مكروهة؛ لأنها إعانة على المعصية، ولأنه عليه الصلاة والسلام لعن في الخمر عشرة، وعد منها «حاملها». واعتبر أبو حنيفة الحديث محمولاً على الحمل المقرون بقصد المعصية. وعلى كل حال فرأي أبي حنيفة قياس. ورأي الصاحبين استحسان. وهو المعول عليه في كثير من الفتاوى. (4/ 2688)۔