گناہ و ناجائز

شیعہ کے ہوٹل کا کھانا کھانے کا حکم

فتوی نمبر :
30558
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شیعہ کے ہوٹل کا کھانا کھانے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرے ساتھ دیرے میں ایک شخص رہتا ہے، اس کا دوست شیعہ ہے، شیعہ نے ہوٹل کھولا ہے، اس کے ساتھ کام کرنے والے سنی ہیں، کھانا پکانے والے سنی ہیں، رات کو جو کھانا بچ جاتا ہے،دیرے میں لیکر آتا ہے، کیا یہ کھانا جائز ہے؟ یہ کھانا دوسرے دن استعمال نہیں ہوتا، پھینک دیا جائے گا، اس کے ساتھ کام کرنا صحیح ہے یا غلط؟ اور اس کا کوئی کام اجرت پر کرسکتے ہیں یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور کھانا، کھانا اور اسی طرح شیعہ کا کوئی کام اجرت لیکر کرنا جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوی الھندیة: ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من أهل الحرب أو من غير أهل الحرب وكذا يستوي أن يكون اليهود والنصارى من بني إسرائيل أو من غيرهم كنصارى العرب اھ(5/347)
وفی البحر الرائق: ولو استاجر المسلم لیبنی له بیعة او کنیسة جاز ویطیب له الاجر ولا استاجرته امراۃ لیکتب لھا قرآنا او غیرہ جاز ویطیب له الاجر(الیٰ قوله) ولا استاجر مسلماً لیحمل له خمراً ولم یقل لاشربه جازت الاجارۃ علیٰ قول الامام خلافاً لھما اھ(8/20)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 30558کی تصدیق کریں
0     1814
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات