السلام علیکم!
میری بیٹی ایک ماہ کی ہے،اور میری فیڈ پر ہے؟ اس گرمی میں جب ہرفیڈ سے پہلے پانی پینا پڑتا ہے،اور بار بار کچھ کھانا بھی پڑتا ہے،تو ایسے میں رمضان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا دودھ پلانے والی ماں روزہ چھوڑ سکتی ہے؟ بعد میں قضا کر لے گی ؟
سائلہ کے روزہ رکھنے کی وجہ سے خود اس کی،یا بچی کی صحت پر کوئی فرق نہ پڑتا ہوتو ان کو روزہ رکھنا لازم ہے، تاہم اگر بچی کے دودھ میں فرق آتا ہو،اور بچی کو دودھ پلانے کی کوئی متبادل صورت بھی نہ ہوتو اس مجبوری کی صورت میں بوقتِ ضرورت روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہے، تاہم بعد میں اس کی قضا لازم ہوگی۔
كما في الدر المختار: فصل في العوارض المبيحة لعدم الصوم وقد ذكر المصنف منها خمسة (المسافر) (أو حامل أو مرضع)أما كانت أو ظهرا على ظاهر(خافت بغلبة الظن على نفسها أو ولدها)( إلى قوله) (الفطر) يوم العذر إلا السفر كما سيحي. (وقضوا) لزوما (ما قدروا بلا فدية)اھ (2/421)
وفي فقه الاسلامي:يباح للحامل والمرضع الافطار اذا خافتا على انفسهما أو على الولد سواء اكان الولد ولداً لمرضعة ام لا(إلى قوله)(واذا افطرتا وجب القضا دون الفدية عند الحنفية اھ(2/647)۔