السلام علیکم، کسی نے مجھے کہا کہ ایریل سرف(Ariel Detergent) ٹھیک نہیں ہے،یعنی اس میں حرام چیز ملائی جاتی ہے،میں نے تحقیق کے لئے کمپنی کو "ای میل" لکھا، جواب یہ آیا کہ"ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ جو اجزاء استعمال کیے جائیں،وہ کیمیکل اور درخت وپودوں سے حاصل کیے گئے ہوں،لیکن بعض دفعہ جب سبزیوں یا پودوں سے نہیں ملتے تو ہم جانوروں سے حاصل شدہ کو استعمال کرتے ہیں۔
(1)کیا ایسے سرف کو استعمال کرنا جائز ہے،جس میں معلوم نہ ہو کہ کیا ملا ہوا ہے؟
(2)اگر جائز نہیں، تو ان کپڑوں کا کیا کریں،جو اس سرف سے دھوئے ہیں؟
(3)اگر کوئی ایسا سرف ہو،جس میں ایسے اشیاء استعمال کیے جائیں،جو جانوروں سے حاصل کیے گئے ہوں،چاہے گوشت،ہڈی یا چربی سے،تو اس سرف سے کپڑے ناپاک ہوجائیں گے؟
اگر تحقیق سے ثابت ہوجائے کہ اس میں جانوروں سے حاصل شدہ کوئی نجس شے ملائی گئی ہے اور یہ بھی تحقیق سے معلوم ہوجائے،کسی کیمیاوی طریقہ سے اس کی حقیقت وماہیت کو بھی تبدیل نہیں کیا گیا، تو ایسے سرف کا استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا،مگر اولاً اس میں جانوروں کے اجزاء کا ملایا جانا یقینی نہیں اور اگر ایسا ہوبھی تو یہ تحقیق نہیں کہ اس کی ماہیت برقرار ہے، بلکہ ظاہر یہی ہے کہ سرف بن جانے سے چربی یا ہڈی کی حقیقت بدل جاتی ہے،اس لئے اس سرف کے استعمال کی گنجائش ہے۔
کمافی الشامیة:(قوله: ولو شك إلخ) في التتارخانية: من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن اھ(1/151)۔
وفی الشامیة ایضاً: وعبارة المجتبى: جعل الدهن النجس في صابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير والتغير يطهر عند محمد ويفتى به للبلوى. اهـ. وظاهره أن دهن الميتة كذلك لتعبيره بالنجس دون المتنجس إلا أن يقال هو خاص بالنجس؛ لأن العادة في الصابون وضع الزيت دون بقية الأدهان تأمل، ثم رأيت في شرح المنية ما يؤيد الأول حيث قال: وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة اهـ(1/316)۔