گناہ و ناجائز

سرکاری ملازم کا "وولانٹ فنڈ" سے بھتیجوں کے لئے رقم وصول کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
31636
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سرکاری ملازم کا "وولانٹ فنڈ" سے بھتیجوں کے لئے رقم وصول کرنے کا حکم

السلام علیکم
مفتی صاحب میں ایک سرکاری معلم ہوں، بطور سترہ گریڈ آفیسر محکمہ ہذا سے تنخواہ لے رہا ہوں ،سرکاری اصول کے مطابق ہم ملازمین سے پہلے وولانٹ فنڈ 1 ۰۹۵ روپے ماہانہ کٹوتی ہوتی ہے ،کبھی کبھی ملازمین کے بچوں کو دیا جاتا ہے، میری اولاد چھوٹی ہے، سکول نہیں جاتے، میرے بھتیجے سکول جا رہے ہیں ، مجھے بھتیجو ں کو اپنے بچے سمجھ کر اس فنڈ کی وصولی میرے لئے جائز ہے؟ بھتیجو ں کا والد یعنی میرا بڑا بھائی بے روز گار ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور رقم اگر سائل کی تنخواہ کا حصہ ہو، اور ہر ماہ پہلے وولانٹ فنڈ کے نام سے اس کی کٹوتی ہوتی رہتی ہو تو سائل کے لئے اسے وصول کرنا جائز ہے، البتہ اگر یہ فنڈ سرکار کی طرف سے صرف ان حضرات کے لئے مقرر ہو جن کے اپنے بچے اسکول میں زیر تعلیم ہیں تو سائل کا اپنے بھتیجوں کو اپنے بیٹے ظاہر کر کے اس فنڈ کو وصول کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے

مأخَذُ الفَتوی

کما في مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «آية المنافق ثلاث» . زاد مسلم: «وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم» . ثم اتفقا: «إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا اؤتمن خان» اھ (1/ 23)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 31636کی تصدیق کریں
0     22
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات