گناہ و ناجائز

جانور کو مار مار کر قتل کرنے کی صورت میں کفارہ کا حکم

فتوی نمبر :
32061
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جانور کو مار مار کر قتل کرنے کی صورت میں کفارہ کا حکم

مفتیان کرام سے سوال ہے ایک بندے نے اپنے ہی کسی جانور پر ظالمانہ تشدد کیا ،اتنی چوٹیں دیں کہ اس کا جانور بیمار ہو کر مر گیا تو ابھی وہ بندہ اللہ تعالی سے شرمندہ ہے کہ جانور کو خود ہی مار دیا اس کا کوئی حل بتائیں کہ اللہ اسے معاف کر دے کوئی کفارہ یا کوئی بھی حل جس سے اس کو سکون حاصل ہو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں انسانوں کے ساتھ رحمت اور انصاف کا معاملہ کرنے کی تعلیم دی، وہاں جانوروں کے ساتھ بھی ظلم و زیادتی کرنے سے منع فرمایا ہے لہذا شخص مذکور اپنے جانور کو مار مار کر قتل کر دینے کی وجہ سے بہت گناہ گار ہوا ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل تو بہ اور استغفار کرے اور آئندہ ایسے ظالمانہ طرز عمل سے اجتناب کرے جبکہ مذکورہ گناہ کا کوئی کفارہ مقرر نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففى مشكاة المصابيح: عن ابى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لتؤدن الحقوق إلى أهلها يوم القيامة حتى يقاد للشاة الجلحاء من الشاة القرناء» . رواه مسلم (3/ 1418)
وفيه أیضاً: وعن يعلى بن مرة الثقفي قال ثلاثة أشياء رأيتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم بينا نحن نسير معه إذ مررنا ببعير يسنى عليه فلما رآه البعير جرجر فوضع جرانه فوقف عليه النبي صلى الله عليه وسلم فقال أين صاحب هذا البعير فجاءه فقال بعنيه فقال بل نهبه لك يا رسول الله وإنه لأهل بيت ما لهم معيشة غيره [ص:1665] قال أما إذ ذكرت هذا من أمره فإنه شكا كثرة العمل وقلة العلف فأحسنوا إليه اھ (3/ 1664) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فضل الرحمن جدون عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 32061کی تصدیق کریں
0     235
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات