محترم میں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا اسلام میں سٹیٹ لائف انشورنش پالیسی جائز ہے، جیسا کہ ہم سالانہ کچھ رقم جمع کرتے ہیں ،اور 20 سال بعد ہمیں بہت زیادہ رقم ملتی ہے ؟
اسٹیٹ لائف انشورنس کا معاملہ سود اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز اور حرام ہے ۔ جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي المشكاة : عن جابر قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم أكل الربوا ومؤكله وكاتبه و شاهدیه و قال هم سواء - رواه مسلم (۱/ ۲۴۴)
وفي أحكام القرآن للجصاص: الميسرة وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها إذا علقت على الأخطار اھ (۲/ ۴۶۵)
وفي الشامية: كل قرض جرّ نفعاً فهو حرام أي إذا كان مشروطاً اھ (۵/۱۶۶)
وفي الهندية: وهو فى الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال وهو محرم اھ (۳/ ۱۱۷) والله أعلم
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0