السلام علیکم
کوئی مجھ جیسا رو سیاہ لیکن اہل بیت اطہار کا شیدائی اظہار نسبت کے لیے اپنے نام کے آخر میں حسنی یا حسینی لکھ سکتا ہے؟ جب کہ وہ صاف ظاہر کر دے کہ یہ اظہار نسبت کے لیے ہے نہ نسب کے لیے؟ جیسا کہ محبوب سبحانی قطب ربانی غوث صمدانی محی الدین عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ تعالی علیہ کے منتسبین اظہار نسبت کے لیے اپنے نام کے آخر میں قادری لکھتے ہیں، تو کیا اس کی گنجائش ہے یا مطلقا ّنا جائز ہے ؟ جو بھی جواب عنایت فرمائیں قرآن و حدیث سے مدلل ہو تو مہربانی ہوگی۔ بینوا توجروا!
عقیدت اور محبت کے اظہار کے لیے کسی بزرگ کی طرف نسبت کرنے میں بطور تخلص اپنے نام کے ساتھ حسینی یا حسنی عثمانی یا صدیقی لکھنے میں تو کچھ مضائقہ نہیں ، بشرطیکہ اس میں تلبیس نسب کا اندیشہ نہ ہو ۔
ففی صحيح البخاري: عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام» اھ (8/ 156)
و في فتح الباري لابن حجر: وترك الانتساب إلى من تبناه لكن بقي بعضهم مشهورا بمن تبناه فيذكر به لقصد التعريف لا لقصد النسب الحقيقي كالمقداد بن الأسود وليس الأسود أباه اھ (12/ 55)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): أقول: ويؤخذ من قوله ولا عبد فلان منع التسمية بعبد النبي ونقل المناوي عن الدميري أنه قيل بالجواز بقصد التشريف بالنسبة اھ (6/ 418)