مفتی صاحب ! مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آج کل ٹیلی نار کمپنی نے” سہارا لون “کے نام سے ایک سروس شروع کی ہے، جس میں کمپنی ایزی پیسہ اکاونٹ کے ذریعہ صارفین کولون مہیا کر رہے ہیں، جس میں اگر پندرہ دنوں کیلئے 1200 لون لیا جائے،تو وہ 239 روپے چارج کے ساتھ 15 دن بعد واپس لیتے ہیں، مطلب 1200+239=1439۔
برائے مہربانی یہ بتائیں کہ یہ سود ہے کہ نہیں؟
ٹیلی نار کمپنی کی طرف سے ”سہارا لون “کے نام سے جو سروس شروع کی گئی ہے، جس میں بذریعہ ایزی پیسہ اکاونٹ کے صارف کو قرض فراہم کیا جاتا ہے ،اور واپسی پر اس سے مزید رقم کی کٹوتی کی جاتی ہے، یہ معاملہ سودی ہے ،جو کہ ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)۔
وفي تكملة فتح الملهم: عن فضالة بن عبيد موقوفا: (كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا) (إلى قوله) وتكون كل زيادة على القرض ربا، سواء اتضح لنا وجه الظلم فيها، أولم يتضح (إلى قوله) أن الرباحرام مطلقا، اھ(۱/ ۵۷۵)۔