میرے والد ۲ مہینے پہلے وفات پاگئے،میں چاہتا ہوں کہ اپنی والدہ کو عمرہ کے لیے لے جاؤں، اسکی عمر ۵۸ سال ہے ، کیا وہ عمرہ کے لیے جاسکتی ہیں، صرف عمرہ کے لیے؟ برائے کرم بتائیں۔
سائل کی والدہ چونکہ عدّت میں ہے، اس لیے عدت مکمل ہونے سے قبل سائل کے لیے اپنی والدہ کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے لے جانا جائزنہیں۔ البتہ عدّت مکمل ہونے کے بعد والدہ کو عمرہ کے لیے لے جانا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
كما فی الدر المختار: (و) مع عدم عدة عليها مطلقا) أية عدة كانت ابن ملك (والعبرة لوجوبها) أي العدة المانعة من سفرها (وقت خروج أهل بلدها )وكذا سائر الشروط بحر الخ.( ج ۲، ص ۳۶۵) ۔
و فی الهندية : ( ومنها عدم قيام العدة فی حق المرأة عدة وفاةكانت اوعدة طلاق وطلاق بائن او رجعى هكذا فی شرح الطحاوی اهـ ( ج ۱ ، ص ۲۱۹) ۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0