گناہ و ناجائز

موجودہ دور میں باندیاں بنانے کاحکم

فتوی نمبر :
34785
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

موجودہ دور میں باندیاں بنانے کاحکم

السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے، کہ آج کے دور میں باندی یا غلام رکھنا جائز ہے؟ دوسرا یہ کہ کسی مرد یا عورت کو اس کے مالی کفالت کے عوض اس کی رضامندی سے باندی یا غلام بنایا جاسکتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ دور میں باندیوں اور غلاموں کا وجود نہیں رہا، جبکہ آزاد مرد یا عورت کی مالی مجبوری، لاچاری اور مسکنت کی وجہ سے اس کی مالی کفالت کے عوض باندی بنانا یا اسے باندی سمجھ کر اس سے بلا نکاح ازداوجی تعلق قائم کرنا شرعاً نا جائز اور حرام ہے۔ اس لئے ان امور سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تبارك وتعالى : {وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا } [الإسراء: 34]۔
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ( «آية المنافق ثلاث» . زاد مسلم: «وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم» . ثم اتفقا: «إذا حدث كذب وإذا وعد أخلف وإذا اؤتمن خان» (1/ 23) ۔
وفي تكمة فتح الملهم : وينبغي أن يتنبه هنا إلى شي مهم، وهو أن اكثر أقوام العالم قد أحدثت اليوم معاهدة فيما بينهما ، وقررت أنها لا تسترق اسيرا من أسارى الحروب ، واكثر البلاد الإسلامية اليوم من شركاء هذه المعاهدة ولا سيما أعضاء الامم المتحدة ،، فلا يجوز لملكة إسلامية اليوم أن تسترق أسيرًا ما دامت هذه المعاهدة باقية اھ (۱/ ۲۷۲)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 34785کی تصدیق کریں
0     413
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات