حج کے بعد یا عمرہ کے بعد کیا شوہر اپنے بال کٹوانے سے پہلے بیوی کے بال کاٹ سکتا ہے اور کیا بیوی خود اپنے بال کاٹ سکتی ہے ؟ کیا حج میں مسجد نمرہ جا کر خطبہ سننا اور جبل رحمہ پر جاکر دعا کرنا ضروری ہے ؟
حج اور عمرے کے تمام افعال ادا کرنے کے بعد احرام کھولنے کی نیت سے شوہر کے لیے اپنے بال کٹوانے سے قبل بیوی کے بال کاٹنا یا بیوی کے لیے از خود اپنے بال کاٹنا جائز اور درست ہے، اور اسکی وجہ سے کوئی دم لازم نہ ہو گا۔
جبکہ عرفہ کے دن ( نو ذی الحجہ ) زوال کے بعد سے لیکر اگلے دن طلوعِ فجر سے قبل تک عرفات کے میدان کے کسی بھی حصے میں وقوف کرنالازم اور ضروری ہے، مسجد نمرہ میں خطبہ سننا یا جبلِ رحمت پر جانا کوئی لازم و ضروری نہیں، البتہ جبلِ رحمت کے قریب و قوف کرنا اور وہاں اپنے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعائیں مانگنا، توبہ و استغفار و غیرہ کرنا بہتر اور افضل ہے۔
کما فی الدر : (فبعد الزوال قبل) صلاة (الظهر خطب الإمام) فی المسجد(خطبتين كالجمعة وعلم فی ها المناسك اھ (2/503)۔
و فی الرد تحت : (قوله بقرب جبل الرحمة) أي الذي فی وسط عرفات ويقال له إلال كهلال، وأما صعوده كما يفعله العوام فلم يذكر أحد ممن يعتد به فیه فضيلة بل حكمه حكم سائر أراضي عرفات اھ (2/506)۔