گناہ و ناجائز

کسی عالم دین کی توھین کرنا جائزہے؟

فتوی نمبر :
35125
| تاریخ :
2018-08-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی عالم دین کی توھین کرنا جائزہے؟

بہت سے لوگ علماءکرام کی تو ہین کرتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہے کہ یہ عالم ٹھیک نہیں ہے جیسے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جاننا چاہیے کہ کسی عامی شخص کا جو شریعت مطہرہ کے کسی ایک شعبہ سے بھی پوری طرح واقفیت نہیں رکھتا اور نہ ہی معروضی اور سیاسی حالات سے آگاہ ہوتا ہے، یہ فیصلہ کرنا، ’’ کہ فلاں عالم کا یہ طرزِعمل غلط اور ٹھیک نہیں‘‘ درست نہیں اور پھر اس کو بنیاد بنا کر دیگر علماء کرام کی شان میں توہین آمیز رویہ اختیار کرنا قطعاً جائز نہیں، بلکہ انتہائی خطرناک طرزِ عمل ہے، فقہاء امت نے ایسے شخص پر جو بلاسبب علماء سے بغض رکھے، اندیشۂ کفر ظاہر فرمایا ہے، اس لیے عوام الناس کو چاہیے کہ محض سیاسی اختلاف یا ذاتی خواہش کے خلاف بات کرنے کی وجہ سے کسی بھی عالم دین چاہے وہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہوں یا کوئی دوسرا عالم، ان کے بارے میں اہانت کا رویہ اختیار کرکے ادب اور دین کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں، ورنہ اس طرزِ عمل کا انجام خاتمہ کی خرابی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی خلاصۃ الفتاویٰ: من أبغض عالما بغیر سبب ظاہر خیف علیہ الکفر۔الخ (۲/۳۸۸)واللہ اعلم باالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی محمد دین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35125کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات