گناہ و ناجائز

خاوند اگر باہر ملک رہتا ہو تو بیوی فطری خواہشات کیسے پوری کرے؟

فتوی نمبر :
35575
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

خاوند اگر باہر ملک رہتا ہو تو بیوی فطری خواہشات کیسے پوری کرے؟

اگر کسی لڑکی کا شو ہر کمائی کی نیت سے دوسرے ملک گیا ہوا ہے اور لوٹ کر 12 مہینے میں ایک بار یا اس سے بھی زیادہ دن میں آتا ہے تو کیا وہ لڑکی اپنی جنسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی اور سے تعلقات کی راہ ہموار کر سکتی ہے بغیر نکاح کے، کیونکہ خاندانی معاملات اس کو طلاق لے کر کسی اور سے شادی کی اجازت نہیں دیتے اور طلاق یافتہ سے ہمارے معاشرے میں کوئی شادی کرنا پسند نہیں کرتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہر عام و خاص اس بات کو جانتا ہے کہ بغیر نکاح کے کسی سے جنسی ، تعلقات قائم کرنا کھلی حرام کاری اور زنا ہے، جس کی اسلام سمیت کسی بھی آسمانی مذہب میں اجازت نہیں، اس لئے اس کی اجازت طلب کرنا جہالت اور دین سے نا واقفیت پر مبنی حرکت ہے۔اسلام میں اس کی قطعا اجازت نہیں، البتہ کسی عورت کی اگر جنسی خواہش زیادہ ہوتو اس کے شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیوی کی جنسی خواہشات کا لحاظ رکھتے ہوئے چار ماہ سے زیادہ عرصہ تک اس سے علیحدہ نہ رہے ،ور نہ وہ شرعاً گناہ گار ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الفقه الإسلامي وأدلته: الزنا حرام وفاحشة عظيمة، وهو من الكبائر العظام، واتفق أهل الملل على تحريمه ولم يحل في ملة قط اھ (7/ 289)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله ولا يبلغ مدة الإيلاء) (إلی قوله) فسأل بنته حفصة: كم تصبر المرأة عن الرجل: فقالت أربعة أشهر، فأمر أمراء الأجناد أن لا يتخلف المتزوج عن أهله أكثر منها، ولو لم يكن في هذه المدة زيادة مضارة بها لما شرع الله تعالى الفراق بالإيلاء فيها. (3/ 203) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35575کی تصدیق کریں
0     366
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات