میری اپنے شوہر سے طلاق ہو گئی ہے اور میں تقریباً ۲۵۰۰۰۰ قرضے میں ہوں اور میرے والد بھی ریٹائر ہو گئے ہیں تو میں عدت میں بیٹھوں یا میں اپنی جاب جاری رکھوں ؟ میری کفالت کے لئے کوئی نہیں ہے۔
واضح ہو کہ طلاق یافتہ عورت کی عدت کا نان و نفقہ شرعاً شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے ، لہٰذا اگر شوہر کی طرف سے سائلہ کے نان ونفقہ کا انتظام ہو اور قرض خواہوں کی طرف سے اپنے قرضوں کا فوری مطالبہ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کیلئے دورانِ عدت ملازمت کیلئے گھر سے نکلنا جائز نہیں البتہ اگر شوہر کی طرف سے نان و نفقہ کا کوئی بندوبست نہ ہو اور نہ ہی سائلہ کی کفالت کرنے والا کوئی اورشخص موجود ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کیلئے دن کے اوقات میں ملازمت کیلئے گھر سے نکلنا جائز ہے مگر رات اپنے گھر گزارنا لازم ہے۔
في الدر المختار: (و) تجب (لمطلقة الرجعي والبائن، والفرقة بلا معصية) كخيار عتق، وبلوغ وتفريق بعدم كفاءة (النفقة والسكنى والكسوة)الخ (ج ۳ ص ۶۰۹)
وفيه ایضاً: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه،الخ ( ج ۳ ص ۵۳۶)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0