گناہ و ناجائز

ایمیگریشن کے لیے جھوٹ بولنے کا حکم

فتوی نمبر :
35675
| تاریخ :
2020-10-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایمیگریشن کے لیے جھوٹ بولنے کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب!میں نے ایک ملک کی ایمیگریشن کے لئے درخواست دینی ہے۔اس کے کچھ شرائط ہوتے ہیں، جیسےتعلیمی ڈگری،کام کا تجربہ ،عمرکی قید،بعض مخصوص تعلیمی قابلیت وغیرہ، ایک شرط کے علاوہ باقی تمام شرائط میری پوری ہوری ہے،وہ یہ کہ ایمگریشن کے لئے تین سال ہ کام کا تجربہ مانگتے ہیں۔میرے پاس دوسال کاتجربہ ہے ،اگرمیں تین سال کا لکھ دوں تو میراکام ہوجائے گا۔میراسوال یہ ہےکہ کیامجھے جھوٹ کا گناہ ہوگا؟جس طرح میں ان کاغذات میں ایک سال تجربہ کے حوالے جھوٹ بول کر لکھوارہاہوں،اس طرح اورلوگ بھی اپناجھوٹاتجربہ شوکرتے ہوں گے۔ایمگریشن کے پروسس سے گزرنے کے لئے اور لوگ بھی کچھ نہ کچھ جھوٹ بولتے ہوں گے۔اگرمجھے ایمیگریشن مل جائےتو میرے روزگارکے مسائل حل ہوجائیں گے۔اور میرے والد کو آرام ہوگااور انہیں بیرونی ملک کانہیں کرناپڑیگا۔اگرروزگارحاصل کرنے کی غرض سے اس جھوٹ کا استعمال کیاجائےتوکیا اس عمل کی معافی ہے ؟اور کیا اس جھوٹ کا استعمال کرسکتے ہیں؟مہربانی کرکے مجھے اس مسئلہ کا حل بتادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی معاملہ میں دوسروں کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے سائل کے لئے جھوٹ بولنا ،والد کو آرام دینے یا روزگار کے حصول کی خاطراس طرح جھوٹ بولنے کی شرعااجازت نہیں،تاہم اگرسائل کاغذات میں دوسال کے بجائے تین سال کا تجربہ لکھ دیتاہے،اوراس بناء پر وہاں جانے کے بعد مل جانے والے کا م کو احسن طریقہ سے انجام دینے کی پوری صلاحیت بھی رکھتاہو۔تو اس ا یمیگریشن کی بنیادپر ملنے والے کا م کی اجرت شرعاحلال ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

عن أبي ھریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: من غشنا فلیس منا۔ (صحیح مسلم، کتاب الإیمان (ج1ص70)
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إن الغادر ینصب لہ لواء یوم القیامۃ۔ (سنن الترمذي، أبواب السیر(ج1ص278)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35675کی تصدیق کریں
0     968
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات