گناہ و ناجائز

چھ ماہ کے بچے کو ضائع کرنے کی شرعاً گنجائش ہے؟

فتوی نمبر :
36249
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

چھ ماہ کے بچے کو ضائع کرنے کی شرعاً گنجائش ہے؟

میری شادی کو پانچ سال ہوئے ہیں دو بیٹیاں ہیں میری گھر والی الله کے فضل سے حاملہ ہے چھ (۶) مہینے سے۔ الٹرا ساؤنڈ میں بچے کے اعضاء مکمل نہیں آئے تنویر الٹراساؤنڈ سے بھی الٹرا ساؤنڈ کراچکے اور سپیشلسٹ ڈاکٹروں سے بھی مشورہ کیا۔ سب کا مشورہ یہ ہے کہ بچے کی کنڈیشن ٹھیک نہیں اور ڈیلیوری کے بعد بھی بچہ اذیت میں رہے گا، آپ ضائع کرا دیں ۔برائے مہربانی آپ اس مسئلہ پر جلدی شرعی راہ نمائی فرمائیں !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

روح اور آثار زندگی پیدا ہو جانے کے بعد اسقاط حمل کی حرمت میں تو شرعاً کسی کلام کی گنجائش نہیں ہے اس لیے کہ جب حمل میں زندگی پیدا ہو گئی تو ایک زندہ نفس اور اس کے درمیان اس کے سوا کوئی فرق نہیں رہتا کہ وہ ایک پردہ رحم میں لپٹا ہوا ہے اور دوسرا اس دنیا میں آچکا ہے، اس لئے صورت مسئولہ میں چھ ماہ بعد حمل ضائع کرنا بالاتفاق ناجائز اور حرام ہے، البتہ چار ماہ سے قبل کسی معقول عذر کی بناء پر اسقاط کرانا بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36249کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات