کینیڈا اور دوسرے پورپی ممالک میں بینکوں سے سودی قرضے کا لین دینا کرنا کیسا ہے؟ جبکہ حال ہی میں طاہر القادری صاحب نے جواز کا فتوی دیا ہے آپ کی کیا رائے ہے مدلّل جواب ارسال کریں؟
واضح ہو کہ غیر مسلم ممالک میں بھی مفتی بہ قول کے مطابق بینک سے سودی لین دین کرنا جائز نہیں۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً قيل في معنى أَضْعافاً مُضاعَفَةً وجهان أحدهما المضاعفة بالتأجيل أجلا بعد أجل ولكل أجل قسط من الزياده على المال والثاني ما يضا عفون به أموالهم اھ (2/ 324)۔
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)-