گناہ و ناجائز

غیر مسلم ممالک میں بینک سے سودی قرضہ لینے کاحکم

فتوی نمبر :
36687
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر مسلم ممالک میں بینک سے سودی قرضہ لینے کاحکم

کینیڈا اور دوسرے پورپی ممالک میں بینکوں سے سودی قرضے کا لین دینا کرنا کیسا ہے؟ جبکہ حال ہی میں طاہر القادری صاحب نے جواز کا فتوی دیا ہے آپ کی کیا رائے ہے مدلّل جواب ارسال کریں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ غیر مسلم ممالک میں بھی مفتی بہ قول کے مطابق بینک سے سودی لین دین کرنا جائز نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في أحكام القرآن للجصاص: وقوله تعالى لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً قيل في معنى أَضْعافاً مُضاعَفَةً وجهان أحدهما المضاعفة بالتأجيل أجلا بعد أجل ولكل أجل قسط من الزياده على المال والثاني ما يضا عفون به أموالهم اھ (2/ 324)۔
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی احمد یوسف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 36687کی تصدیق کریں
0     412
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات