السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ مندرجہ ذیل امور کے متعلق شریعت مطہرہ کا حکم کیا ہے؟
۱:کچھ ٹیکسی ڈرائیور مختلف جگہوں سے تشریف لائے ہوئے حجاج کرام اور معتمرین حضرات کو یہاں مدینہ منورہ میں واقع کھجور کے باغات میں کھجور خریدنے لے جاتے ہیں اور اس کے بدلے میں باغ مالکان سے کمیشن وصول کرتے ہیں جس کی مقدار 15 فی صد سے 25 فی صد تک ہوتی ہے اور بظاہر معلوم یوں ہوتا ہے کہ کمیشن کے اس مقدار کی وجہ سے حاجیوں کو کھجور مہنگی بیچی جاتی ہے۔ کیا ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے کمیشن کی یہ رقم لینا جائز ہے ؟
۲: یہاں سعودی عرب میں عام گاڑیوں کو بطور ٹیکسی استعمال کرنا قانوناً ممنوع ہے اور صرف ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت چلنے والی گاڑیاں ہی اجرت پر سواریوں کو اٹھا سکتی ہیں، لیکن باوجود اس کے کچھ لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں کو ٹیکسی کے لیے غیر قانونی طور پر استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات ان کو بھاری جرمانے بھی ادا کرنا پڑ جاتے ہیں، کیا اس حالت میں اپنی ذاتی گاڑی کو بطور ٹیکسی استعمال کر کے کمائی گئی رقم جائز ہوگی ؟ جزاكم الله خيراً
کمیشن کی رقم کو اگر اس طور پر متعین کر لیا جائے کہ جو بعد میں ٹیکسی ڈرائیور اور کھجور مالکان کے در میان نزاع کا باعث نہ بنے ،تو ایسی صورت میں ٹیکسی ڈرائیور کے لیے کھجور مالکان کو گاہک فراہم کرنے پر کمیشن لینا جائز ہے، تاہم اتنی زیادہ کمیشن مقرر کر ناجو مارکیٹ میں گرانی باعث ہو اور عام عوام کو تکلیف و مشقت میں مبتلا کیا جائے احادیث مبارکہ کی رو سے ناپسندیدہ ہے جس سے احتراز کرنا چاہیئے ۔
جبکہ ذاتی گاڑی کو بطور ٹیکسی استعمال کر کے پیسے کمانا اگر چہ جائز ہے ، مگر اس طرح کرنا چونکہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے ، اس لئے اپنی عزت و آبرو کو داؤ پر لگا کر ایسا کرنا درست نہیں، جس سے احتراز چاہئیے ۔
کما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): مطلب في أجرة الدلال [تتمة] قال في التتارخانية: و في الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. و في الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه اھ (6/ 63)۔
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 172)۔
(قوله وهي ثلاث تكبيرات) هذا مذهب ابن مسعود وكثير من الصحابة، ورواية عن ابن عباس وبه أخذ أئمتنا الثلاثة، (إلی قوله) مطلب تجب طاعة الإمام فيما ليس بمعصية (إلی قوله) قال في المعراج لأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجبة اهـ