السلام علیکم !
جناب مفتی صاحب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے والد صاحب کا حال ہی میں 72 سال کی عمر میں انتقال ہوا ہے،اور وہ پچھلے 13 سال سے بیمار تھے ،جبکہ میری والدہ محترمہ کی عمر 60 سال ہے ،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کی عمر 60 سال ہے اور وہ کافی بزرگ بھی ہیں جبکہ والد صاحب 13 سال بیمار رہے ہیں تو اس لئے ان کو عدت کرنے کی ضرورت نہیں ، براہِ مہربانی جلدی اس کا جواب دیں ۔
سائل کی والدہ پر اس عمر میں بھی چار ماہ دس دن بطورِ عدت گزارنا شرعاً لازم ہے ۔
قال اللہ تعالی:والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعة اشھر وعشرا الایة (البقرہ :224)۔
وفی الدر المختار:(و) العدة (للموت أربعة أشهر) بالأهلة لو في الغرة كما مر (وعشر) من الأيام بشرط بقاء النكاح صحيحا إلى الموت (مطلقا) وطئت أو لا ولو صغيرة، أو كتابية تحت مسلم ولو عبدا فلم يخرج عنها إلا الحامل اھ (3/510)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0