ہماری کمپنی ہر سال اپنے منافع کا پانچ فیصد حصہ مزدوروں کو دیتی ہے، جس میں کچھ رقم سود کی ہوتی ہے، مثلاً: اگر کسی کو سترہ ہزار روپے ملے ہیں تو اس میں دوہزار پانچ سو روپے سود کے شامل ہیں، جوکہ باقاعدہ وضاحت کے ساتھ بتادیا جاتا ہے کہ اس میں سود کی کتنی رقم ہے، اب میرا سوال یہ ہے کہ اس سودی رقم کا کیا کرنا چاہیئے ؟ اس کو کہیں استعمال کرسکتے ہیں؟ اس سے کسی غریب کی مدد کرسکتے ہیں؟
واضح ہوکہ سائل کی کمپنی کی طرف سے جو پانچ فیصد منافع ملازمین کو دیا جاتا ہے، وہ ان کی کارکردگی کے عوض دیا جاتا ہے اور اجیر اور مستاجر کے باہمی معاہدہ سے طے پاتا ہے، حتی کہ اگر مالکانِ کارخانہ دینے سے انکار کریں تو ملازمین کو اس کے مطالبہ کا اور عدالتی چارہ کا بھی اختیار ہوتا ہے، اسی لئے شرعاً اس منافع کو اجرت ہی کا حصہ قرار دیا جائے گا، مزید یہ کہ مذکور رقم ملازمیں کا حق ہے اور ملازمین کو وہ ادا کرنے سے قبل وہ ان کی ملکیت میں داخل نہیں ہوگی، اس لئے ملازمین کو مذکور رقم ادا کرنے سے پہلے کمپنی جو بھی معاملہ کرے، اس کا ملازمین سے کوئی تعلق نہیں، اس لئے مذکور رقم پر سود کے نام سے جو رقم کمپنی ملازمین کو دیتی ہے، وہ رقم بھی ملازمین کیلئے استعمال کرنا جائز اور درست ہے۔(ماخوز از نوادر الفقہ بتصرف وتغییر)
کما فی البحر الرائق: (قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها اھ(7/300)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1